حدیث نمبر: 3705
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (5549 وسنده صحيح) الحكم بن عتيبة صرح بالسماع عند أحمد (4/314) ورواية شعبة عن المدلسين محمولة بالسماع
تخریج حدیث « سنن النسائی/الأشربة 4 (5549)، (تحفة الأشراف: 15623)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/314) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5549

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5549 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دو چیزوں ادھ کچی اور سوکھی کھجور سے بنی نبیذ پینے سے ممانعت کا بیان۔`
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بلح» ادھ کچی اور سوکھی کھجور کی اور انگور اور سوکھی کھجور (کی نبیذ) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5549]
اردو حاشہ: (1) کسی پھل کو پانی میں ڈال دیا جاتا ہے، پھر جب و ہ نرم ہوجاتا ہے تو پھل کو ہاتھوں سے پانی میں مسل دیا جاتا ہے، اور پھر کسی کپڑے سے وہ پانی نچوڑ لیا جاتا ہے تاکہ پھل پھوک الگ ہو جائے اور پھر وہ پھل کے اثر والا پانی پی لیا جاتا ہے۔ اسے نبیذ کہتے ہیں۔ یہ ذائقہ دار اور مقوی ہوتی ہے۔ اسے پینے میں کوئی حرج نہیں مگر اسے زیادہ دیر نہ رکھا جائے ورنہ اس میں نشہ پیدا ہو جا تا ہے۔ اگر وہ نشہ آور ہو جائے تو پھر شراب کی طرح حرام ہے۔ اگر نبیذ دو قسم کے پھلوں سے بنائی جائے، یعنی دونوں پھلوں کے پانی میں ڈالا جائے تو اس میں جلدی نشہ پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے کیونکہ اس میں کیمیائی عمل زیادہ تیزی سے شروع ہو جاتا ہے، اس لیے دو چیزوں کی نبیذ سے مطلقا روک دیا گیا ہے۔ اگرچہ نشہ پیدا نہ ہونے کی صورت میں اس کا استعمال درست ہے مگر عام لوگ نشے کے معاملے میں زیادہ حساس نہیں ہوتے۔ ممکمن ہے انہیں نشے کا پتا نہ چلے، اس لیے مطلقا روک دیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک دوپھلوں کی نبیذ سے نہی کی وجہ تعیش ہے، جیسے دو سالن پکانے سے منع کیا گیا ہے۔
(2) گدر اور خشک کھجور آپس میں بہت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ان کو دو پھلوں کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5549 سے ماخوذ ہے۔