مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3699
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ ، قَالَ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ : إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا ، قَالَ : فَلَا إذًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا : وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب ممانعت نہیں رہی “ ( تمہیں ان کی اجازت ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5592)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1870 | سنن نسائي: 5659

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5659 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہر برتن کے استعمال کی اجازت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چنانچہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: تب تو نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5659]
اردو حاشہ: گویا یہ پابندی کچھ عرصے تک رہی۔ لوگوں کی تکلیف کو محسوس فرماتے ہوئے بعد میں آپ نے پابندی اٹھائی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5659 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔