حدیث نمبر: 3693
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ : " أَنْهَاكُمْ عَنْ النَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ ، وَلَكِنْ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا : ” میں تمہیں لکڑی کے برتن ، تار کول ملے ہوئے برتن ، سبز لاکھی گھڑے ، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1993)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأشربة 6 (1992)، سنن النسائی/الأشربة 38 (5649)، (تحفة الأشراف: 15093، 14470)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/491، 414) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 1112

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1112 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1112- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دباء اور مزفت میں نبیذ تیار نہ کرو۔‏‏‏‏" پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے یہ بات بیان کی حنتم اور نقیر (دباء، فرفت، حنتم اور نقیر یہ چاروں برتن ہیں جن میں زمانہ جہالت میں شراب پی جاتی تھی تو برتنوں سے اس لئے منع فرمایا تاکہ برتنوں کو دیکھ کر طبیعت اس طرف مائل نہ ہو) سے بھی اجتناب کرو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1112]
فائدہ:
پہلے یہی حکم تھا کہ ان برتنوں میں نبیذ تیار نہ کی جائے کیونکہ ان برتنوں میں نبیذ جلد ہی شراب کی شکل اختیار کر جاتی ہے، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں میں نبیذ تیار کرنے کی اجازت دے دی تھی، اس کی تفصیل صحیح مسلم (977) میں موجود ہے۔ نیز صحیح مسلم (17) میں چار طرح کے برتنوں کا ذکر ہے، جو دو برتن سیدنا ابوہریرہ ﷜ نے الگ اپنی طرف سے بیان کیے ہیں، ان کا ذکر بھی مرفوع حدیث میں ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1110 سے ماخوذ ہے۔