حدیث نمبر: 3689
حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ وَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَسُئِلَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ عَنِ الدَّاذِيِّ ؟ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ : الدَّاذِيُّ شَرَابُ الْفَاسِقِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حارث بن منصور کہتے ہیں` میں نے سفیان ثوری سے سنا ان سے «داذی» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ نے فرمایا ہے : ” میری امت کے بعض لوگ شراب پئیں گے لیکن اسے دوسرے نام سے موسوم کریں گے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان ثوری کا کہنا ہے : «داذی» فاسقوں کی شراب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: «داذی» ایک قسم کا دانہ جسے نبیذ میں ڈالتے ہیں تو اس میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قول سفيان الثوري سنده ضعيف إليه لأن أبا داود لم يذكر سنده, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131, قَالَ أَبُو دَاوُد
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) ( یہ روایت نہیں بلکہ پچھلی حدیث کی طرف اشارہ ہے ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5661

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5661 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شراب کی حیثیت کا بیان۔`
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور وہ اس کا نام کچھ اور رکھ دیں گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5661]
اردو حاشہ: (1) یہ حدیث مبارکہ اعلام نبوت میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح خبر دی بعد ازاں بعینہ اسی طر ح ہوا۔ آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مختلف ناموں سے شراب پیتے ہیں۔ أعاذنا اللہ منھا۔
(2) یہ حدیث مبارکہ ہر قسم کی شراب کی حرمت کی صریح دلیل ہے۔ اس کی حرمت پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ والحمد للہ علی ذلك۔ ہاں! البتہ ایک فرقہ ایسا ہے جو صرف انگور سے کشید کردہ شراب کو شراب مانتا ہے، اس کے علاوہ دیگر مسکرات کو شراب نہیں کہتا ہے۔ اس فرقے نے صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس فرقے کا کہنا یہ بھی ہے کہ تھوڑی سی پی لینے سے کچھ نہیں ہوتا، اتنی سی مقدار حلال ہے۔ حرام صرف وہ مقدار ہے جو نشہ چڑھا دے۔ فإنّا للهِ وإنّا إليه راجِعونَ.
(3) یہ حدیث اس اہم مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو شخص یا گروہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو حیلوں بہانوں سے حلال کرے اس کے لیے شدید وعید ہے، خواہ وہ اس کا نام بدل دے یا کوئی اور حیلہ تراشے۔ حرمت شراب کی اصل علت اور سبب خمار اور نشہ ہے، لہٰذا جس چیز سے خمار اور نشہ چڑھ جائے وہ حرام قرار پائے گی، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5661 سے ماخوذ ہے۔