حدیث نمبر: 3688
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ ، فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ` عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ۱؎ کا ذکر کیا ، انہوں نے کہا : مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۲؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: طلاء: انگور سے بنا ہوا ایک قسم کا شیرہ ہے۔
۲؎: جیسے اس زمانے میں تاڑی اور بھانگ استعمال کرنے والے اسے شراب نہیں سمجھتے حالانکہ ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4292), وللحديث شواھد عند ابن ماجه (3385 وسنده حسن) وغيره
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الفتن 22 (4020)، (تحفة الأشراف: 12162)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/342) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4020

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´داذی سے تیار ہونے والی شراب کے حکم کا بیان۔`
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ۱؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۲؎۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3688]
فوائد ومسائل:
فائدہ: (دازی) ایک خاص قسم کا دانہ ہے۔
جو نبیذ میں ڈال دیا جاتا ہے۔
جس سے اس میں شدت آجاتی ہے۔
اور نشہ آور شراب بن جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3688 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4020 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سزاؤں کا بیان۔`
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میری امت میں سے کچھ لوگ شراب پئیں گے، اور اس کا نام کچھ اور رکھیں گے، ان کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے، اور گانے والی عورتیں گائیں گی، تو اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا، اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دے گا۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4020]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
خواہ اس کا کوئی نام رکھ لیاجائے۔

(2)
نام بدلنے سے چیز کا شرعی حکم تبدیل نہیں ہوجاتا۔
جیسے کہ سود کو منافع کہے یا مارک اپ وہ سود ہی رہتا ہے۔

(3)
حیلے سے حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی ہے بلکہ جرم زیادہ شدید ہوجاتا ہے۔

(4)
ساز بجانا اور سننا حرام ہے۔

(5)
ساز کے ساتھ اچھے شعر بھی سنے جائیں تو جائز نہیں ہوں گے۔
بعض لوگ سازوں کے ساتھ نعت پڑھتے اور سنتے ہیں۔
یہ رسول اللہﷺ کی محبت نہیں بلکہ گستاخی ہے اور اگر ان کا مفہوم شرکیہ ہوتو گناہ اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔

(6)
اس امت میں زمین میں دھنس جانے اورصورت تبدیل ہوکر بندر یا خنزیر بن جانے والے واقعات پیش آئینگے۔
اللہ تعالی محفوظ رکھے۔

(7)
پہلے سے خبر دینے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی مسلمان لاعلمی میں وہ جرم نہ کربیٹھے جس سے وہ اس سزا کا مستحق ہوجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4020 سے ماخوذ ہے۔