حدیث نمبر: 3684
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ مِنَ الْعَسَلِ ؟ فَقَالَ : ذَاكَ الْبِتْعُ ، قُلْتُ : وَيُنْتَبَذُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ ، فَقَالَ : ذَلِكَ الْمِزْرُ ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” وہ بتع ہے “ میں نے کہا : جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ مزر ہے “ پھر آپ نے فرمایا : ” اپنی قوم کو بتا دو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري (6124، 4344) صحيح مسلم (1733 بعد ح 2001)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9106)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي60 (4343)، الأدب 80 (6124)، الأحکام 22 (7172)، صحیح مسلم/الأشربة 7 (1733)، سنن النسائی/الأشربة 23 (5598)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 9 (3391)، مسند احمد (4/410، 416، 417) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔`
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ بتع ہے میں نے کہا: جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو بتا دو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3684]
فوائد ومسائل:
فائدہ: نبیذ کھجور یا کشمش وغیرہ سے بنایا جانے والا میٹھا مشروب مطلقاً حرام نہیں ہے۔
یہ حرام اسی صورت میں ہوتا ہے۔
جب اس میں ترشی اور نشہ آجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3684 سے ماخوذ ہے۔