سنن ابي داود
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
باب الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ باب: شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟
حدیث نمبر: 3677
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالذُّرَةِ ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : ” شراب انگور کے رس ، کشمش ، کھجور ، گیہوں ، جو اور مکئی سے بنتی ہے ، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3379 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟`
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے، گیہوں سے، جو سے، منقیٰ سے، کھجور سے اور شہد سے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3379]
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے، گیہوں سے، جو سے، منقیٰ سے، کھجور سے اور شہد سے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3379]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شراب کسی بھی چیز سےبنائی جائے وہ حرام ہے۔
(2)
شراب کے حرام ہونے کی وجہ اس کا نشہ آور ہونا ہے۔
اس لئے اگر کھانے کی کسی چیز سے یا کسی چیز کے انجکشن سے یا سونگھنے سے نشہ آتا ہو تو ان سب چیزوں کا یہ استعمال بھی حرام اور قابل سزا ہوگا۔
(3)
آپریشن وغیرہ کے لئے بے ہوش کرنے کے لئے کلوروفام سنگھانا نشہ کرانے کے حکم میں نہیں کیونکہ بے ہوشی اور مدہوشی (مست ہونے)
میں فرق ہے۔
تاہم یہ بھی صرف علاج کی غرض سے ضرورت کے موقع پر جائز ہے۔
بلاضرورت ہوش وحواس ختم کرنے جائز نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
شراب کسی بھی چیز سےبنائی جائے وہ حرام ہے۔
(2)
شراب کے حرام ہونے کی وجہ اس کا نشہ آور ہونا ہے۔
اس لئے اگر کھانے کی کسی چیز سے یا کسی چیز کے انجکشن سے یا سونگھنے سے نشہ آتا ہو تو ان سب چیزوں کا یہ استعمال بھی حرام اور قابل سزا ہوگا۔
(3)
آپریشن وغیرہ کے لئے بے ہوش کرنے کے لئے کلوروفام سنگھانا نشہ کرانے کے حکم میں نہیں کیونکہ بے ہوشی اور مدہوشی (مست ہونے)
میں فرق ہے۔
تاہم یہ بھی صرف علاج کی غرض سے ضرورت کے موقع پر جائز ہے۔
بلاضرورت ہوش وحواس ختم کرنے جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3379 سے ماخوذ ہے۔