حدیث نمبر: 3676
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا ، وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الْبُرِّ خَمْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب انگور کی بھی ہوتی ہے ، کھجور کی بھی ، شہد کی بھی ہوتی ہے ، گیہوں کی بھی ہوتی ہے ، اور جو کی بھی ہوتی ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: چونکہ اکثر شراب مذکورہ بالا چیزوں سے بنتی تھی اس لیے انہیں کا ذکر فرمایا، ورنہ شراب کا بننا انہیں چیزوں پر منحصر اور موقوف نہیں بلکہ اور چیزوں سے بھی شراب بنتی ہے، شراب ہر اس مشروب کو کہتے ہیں جو نشہ آور ہو اور عقل کو ماؤوف کر دے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3647), إبراهيم بن المھاجر بن جابر البجلي وثقه الجمھور وھو حسن الحديث
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأشربة 8 (1872، 1873)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 5 (3379)، (تحفة الأشراف: 11626)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/267، 273) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3677 | سنن ابن ماجه: 3379

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3379 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟`
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے، گیہوں سے، جو سے، منقیٰ سے، کھجور سے اور شہد سے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3379]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شراب کسی بھی چیز سےبنائی جائے وہ حرام ہے۔

(2)
شراب کے حرام ہونے کی وجہ اس کا نشہ آور ہونا ہے۔
اس لئے اگر کھانے کی کسی چیز سے یا کسی چیز کے انجکشن سے یا سونگھنے سے نشہ آتا ہو تو ان سب چیزوں کا یہ استعمال بھی حرام اور قابل سزا ہوگا۔

(3)
آپریشن وغیرہ کے لئے بے ہوش کرنے کے لئے کلوروفام سنگھانا نشہ کرانے کے حکم میں نہیں کیونکہ بے ہوشی اور مدہوشی (مست ہونے)
میں فرق ہے۔
تاہم یہ بھی صرف علاج کی غرض سے ضرورت کے موقع پر جائز ہے۔
بلاضرورت ہوش وحواس ختم کرنے جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3379 سے ماخوذ ہے۔