سنن ابي داود
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
باب الْعِنَبِ يُعْصَرُ لِلْخَمْرِ باب: آدمی شراب بنانے کے لیے انگور نچوڑے اس پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 3674
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَاهُمْ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ ، وَشَارِبَهَا ، وَسَاقِيَهَا ، وَبَائِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَعَاصِرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب کے پینے اور پلانے والے ، اس کے بیچنے اور خریدنے والے ، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے ، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی شراب بنانے کے لیے انگور نچوڑے اس پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3674]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3674]
فوائد ومسائل:
فائدہ: باغ والے اور تاجر کو اگر معلوم ہو کہ خریدار لوگ ان انگوروں وغیرہ سے شراب بنایئں گے تو ان کو فروخت کرنا یا کسی اورطرح سے معاون بننا جائز نہیں اللہ کا فرمان ہے۔
(وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ) (المائدہ:2) ترجمہ۔
گناہ اور تعدی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیا کرو۔
فائدہ: باغ والے اور تاجر کو اگر معلوم ہو کہ خریدار لوگ ان انگوروں وغیرہ سے شراب بنایئں گے تو ان کو فروخت کرنا یا کسی اورطرح سے معاون بننا جائز نہیں اللہ کا فرمان ہے۔
(وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ) (المائدہ:2) ترجمہ۔
گناہ اور تعدی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیا کرو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3674 سے ماخوذ ہے۔