سنن ابي داود
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ باب: شراب کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3671
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضَي اللهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ ، فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ ، فَقَرَأَ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، فَخَلَطَ فِيهَا ، فَنَزَلَتْ : لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت : «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ” نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو “ نازل ہوئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شراب کی حرمت کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ” نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو “ نازل ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3671]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ” نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو “ نازل ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3671]
فوائد ومسائل:
فائدہ: نماز میں انسان کو پورے شعور کے ساتھ متوجہ ہوکر کھڑے ہونا چاہیے۔
اس لئے نماز میں اگرکسی پر نیند کا غلبہ ہو تو اس کےلئے حکم ہے۔
کہ وہ پہلے اپنی نیند پوری کرے۔
فائدہ: نماز میں انسان کو پورے شعور کے ساتھ متوجہ ہوکر کھڑے ہونا چاہیے۔
اس لئے نماز میں اگرکسی پر نیند کا غلبہ ہو تو اس کےلئے حکم ہے۔
کہ وہ پہلے اپنی نیند پوری کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3671 سے ماخوذ ہے۔