حدیث نمبر: 3670
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، قَالَ عُمَرُ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً ، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ سورة البقرة آية 219 ، قَالَ : فَدُعِيَ عُمَرُ ، فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً ، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43 ، فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ يُنَادِي : أَلَا لَا يَقْرَبَنَّ الصَّلَاةَ سَكْرَانُ ، فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91 ، قَالَ عُمَرُ انْتَهَيْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی : اے اللہ ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہو جائے تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری : «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» ” یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں “ ( سورة البقرہ : ۲۱۹ ) ۔ راوی کہتے ہیں : تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی : اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے ، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی : «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ” یعنی اے ایمان والو ! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ “ ( سورة النساء : ۴۳ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا : خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی : اے اللہ ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما ، تو یہ آیت نازل ہوئی : «فهل أنتم منتهون» ” یعنی کیا اب باز آ جاؤ گے “ ( سورة المائدہ : ۹۱ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم باز آ گئے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأشربة / حدیث: 3670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (3049) نسائي (5542), أبو إسحاق مدلس وعنعن وعمرو بن شرحبيل لم يسمع من عمر, والحديث السابق (الأصل : 3669) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
تخریج حدیث « سنن الترمذی/تفسیر سورة المائدة 8 (3049)، سنن النسائی/الأشربة 1 (5542)، (تحفة الأشراف: 10614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/53) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5542

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5542 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شراب کی حرمت کا بیان۔`
ابومیسرہ کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل (ہونے کو) ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے (دعا میں) کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورۃ البقرہ کی آیت نازل ہوئی ۱؎ عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی، (پھر بھی) انہوں نے کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں تو نماز کے قر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5542]
اردو حاشہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں شراب کی حرمت کا جذبہ اللہ تعالی کی طرف سے الہام تھا جو قطعی حکم اترنے سے پہلے القا کیا گیا تھا تا کہ لوگوں کے دلوں میں شراب سے نفرت پیدا ہو جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5542 سے ماخوذ ہے۔