حدیث نمبر: 3656
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْغُلُوطَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی باتوں سے منع فرمایا ہے جس میں بکثرت غلطی واقع ہو ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ایسے مسائل پوچھنا جس کا مقصد حصول علم نہ ہو، بلکہ دوسروں کا امتحان لینا اور انہیں ذلیل کرنا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العلم / حدیث: 3656
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد اللّٰه بن سعد الدمشقي ضعفه أھل الشام ووثقه ابن حبان وحده وقال :’’ يخطئ‘‘ و ضعفه راجح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11428)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/435) (ضعیف) » ( اس کے راوی عبداللہ بن سعد البجلی لین الحدیث ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 243

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فتوی دینے میں احتیاط برتنے کا بیان۔`
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی باتوں سے منع فرمایا ہے جس میں بکثرت غلطی واقع ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3656]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ کسی طرح درست نہیں کہ رمز اور پہیلی کے انداز میں مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی مفتی مبہم اور مخفی انداز سے جواب دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3656 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 243 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´بغیر علم کے فتویٰ اور مشورہ دینے والے کا گناہ`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْأُغْلُوطَاتِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد . . .»
. . . سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغالطہ دینے سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 243]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ عبداللہ بن سعد بن فروہ البجلی الدمشقی کو صرف ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا اور کہا: «يخطئ» وہ غلطی کرتا تھا۔ [7؍39]
◄ مغلطائی حنفی نے بتایا کہ ساجی نے کہا: «ضعفه أهل الشام فى الحديث»
اسے شامیوں نے حدیث میں ضعیف قرار دیا ہے۔ [اكمال مغلطائي 2؍275 بحواله حاشيه تهذيب الكمال 4؍147]
◄ یہ راوی مجہول الحال ہے، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 243 سے ماخوذ ہے۔