حدیث نمبر: 3653
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ هَاشِمِ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ رَجُلٍ خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سلام ایک شخص سے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ( اہم ) بات بیان کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے ( تاکہ اچھی طرح سامع کی سمجھ میں آ جائے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العلم / حدیث: 3653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, سابق بن ناجية صحح له الحاكم والذھبي ووثقه ابن حبان فھو حسن الحديث
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15676) (ضعیف الإسناد) » ( اس کے راوی سابق لین الحدیث ہیں، مگر یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ایک بات کو باربار دہرانے کا بیان۔`
ابو سلام ایک شخص سے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی (اہم) بات بیان کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے (تاکہ اچھی طرح سامع کی سمجھ میں آ جائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3653]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
حسب ظروف ومصالح مدرس خطیب اور واعظ کو چاہیے کے اپنی بات سامعین کے کوب ذہن نشین کرائے اور بات دہرانے کو عیب نہ جانے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3653 سے ماخوذ ہے۔