حدیث نمبر: 3652
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُقْرِئُ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ مِهْرَانَ أَخِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی عقل سے کوئی بات کہی اور درستگی کو پہنچ گیا تو بھی اس نے غلطی کی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العلم / حدیث: 3652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, ترمذي(2952), سهيل بن مهران :ضعيف (تقريب التهذيب: 2672), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
تخریج حدیث « سنن الترمذی/تفسیر القرآن 1 (2952)، (تحفة الأشراف: 3262) (ضعیف) » ( اس کے راوی سہیل ضعیف ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2952 | مشكوة المصابيح: 235

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بغیر علم کے اللہ کی کتاب کے سلسلہ میں کچھ کہنا کیسا ہے؟`
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی عقل سے کوئی بات کہی اور درستگی کو پہنچ گیا تو بھی اس نے غلطی کی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3652]
فوائد ومسائل:
ملحوظہ۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ علم ومعرفت کے بغیرکتاب اللہ کی تفسیر کرنا بہت بڑی اور بری جسارت ہے۔
اور ایسے ہی فرامین رسول ﷺ کی توضیح کےلئے بھی شرعی علوم میں رسوخ لازمی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3652 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2952 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان۔`
جندب بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے (اور اپنی صواب دید) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2952]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں سہیل ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2952 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 235 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´ اپنی رائے سے تفسیر کرنے پر وعید`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فقد أَخطَأ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد . . .»
. . . سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن مجید کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا: اور اتفاقیہ طور پر اس کی بات صحیح ہو گئی تب بھی اس نے غلطی کی۔ اس حدیث کو ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 235]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ امام ترمذی نے فرمایا: «هذا حديث غريب، وقد تكلم بعض أهل الحديث فى سهيل بن أبى حزم»
یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل حدیث (محدثین) نے سہیل بن ابی حزم پر جرح کی ہے۔ [سنن ترمذي ص 660]
◄ ابوبکر سہیل بن ابی حزم القطعی البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 2672]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 235 سے ماخوذ ہے۔