حدیث نمبر: 3650
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي عَمْرٍو : " مَا يَكْتُبُوهُ ؟ " قَالَ : " الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا يَوْمَئِذٍ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ولید ( ولید بن مزید ) کہتے ہیں` میں نے ابوعمرو ( اوزاعی ) سے کہا : ” وہ لوگ لکھ دیں “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ خطبہ جسے آپ سے اس روز ابوشاہ نے سنا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العلم / حدیث: 3650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أبو عمرو الأوزاعي
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (2017)، (تحفة الأشراف: 15383) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´علم کے لکھنے کا بیان۔`
ولید (ولید بن مزید) کہتے ہیں میں نے ابوعمرو (اوزاعی) سے کہا: وہ لوگ لکھ دیں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ خطبہ جسے آپ سے اس روز ابوشاہ نے سنا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3650]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ اور اس قسم کے دیگر صحیح احادیث دلیل ہیں کہ نبی کریمﷺ کے حین حیات قرآن کریم کے علاوہ فرامین رسول بھی لکھے گئے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3650 سے ماخوذ ہے۔