حدیث نمبر: 3645
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ ، وَقَالَ : " إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي ، فَتَعَلَّمْتُهُ ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ ، فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ ، وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں “ تو میں اسے سیکھنے لگا ، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العلم / حدیث: 3645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (2715 وسنده حسن)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الأحکام 40 (7195 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الاستئذان 22 (2715)، (تحفة الأشراف: 3702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/186) (حسن صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی باتوں کی روایت کا حکم۔`
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3645]
فوائد ومسائل:

غیر مسلموں کی کسی زبان اورتحریر کاعلم حاصل کرنا دینی اور دنیاوی غرض سے ناجائز نہیں ہے۔
مگر اسے اپنی ثقافت کاحصہ بنا لینا ناجائز ہے۔
اور جب یہ علم دینی اغراض سے ہو تو اس میں اجر بھی ہے۔


اور یہ زبانیں مسلمانوں کے ان افراد کو سکھائی جایئں جن کو ان کی ضرورت ہو۔
ورنہ اسے عام نصاب تعلیم بنا دینا اور لازمی قرار دے دینا دینی ودنیاوی لحاظ سے ظلم عظیم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3645 سے ماخوذ ہے۔