حدیث نمبر: 3644
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ مُرَّ بِجَنَازَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : إِنَّهَا تَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ ، وَقُولُوا : آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ، فَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُ ، وَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا : اے محمد ! کیا جنازہ بات کرتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ بہتر جانتا ہے “ یہودی نے کہا : جنازہ بات کرتا ہے ( مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب ، بلکہ یوں کہو : ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر ، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی ، اور اگر سچ ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب العلم / حدیث: 3644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نملة بن أبي نملة مستور كما في التحرير (7189) وثقه ابن حبان وحده (485/5), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
تخریج حدیث « تفرد بہ ، أبوداود، (تحفة الأشراف: 12177)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136) (ضعیف) » (اس کے راوی ابن ابی نملہ لین الحدیث ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی باتوں کی روایت کا حکم۔`
ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے (مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3644]
فوائد ومسائل:
ملحوظہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ ایسے ہی ہے کہ جو باتیں قرآن وسنت کی رو سے بصراحت سچ ہیں۔
ان کی تصدیق کی جائے۔
اور جو غلط ہیں ان کی تکذیب کی جائے اور باقی کے بارے میں مذکورہ جواب دیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3644 سے ماخوذ ہے۔