حدیث نمبر: 3640
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ حَدَّثَهُمْ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " اخْتَصَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فِي حَرِيمِ نَخْلَةٍ فِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا ، فَأَمَرَ بِهَا فَذُرِعَتْ ، فَوُجِدَتْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ ، وَفِي حَدِيثِ الْآخَرِ ، فَوُجِدَتْ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ ، فَقَضَى بِذَلِكَ " ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ مِنْ جَرِيدِهَا فَذُرِعَتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دو شخص ایک کھجور کے درخت کی حد کے سلسلے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ایک روایت میں ہے آپ نے اس کے ناپنے کا حکم دیا جب ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ نکلا ، اور دوسری روایت میں ہے وہ پانچ ہاتھ نکلا تو آپ نے اسی کا فیصلہ فرما دیا ۔ عبدالعزیز کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3640
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4408) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک کھجور کے درخت کی حد کے سلسلے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک روایت میں ہے آپ نے اس کے ناپنے کا حکم دیا جب ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ نکلا، اور دوسری روایت میں ہے وہ پانچ ہاتھ نکلا تو آپ نے اسی کا فیصلہ فرما دیا۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3640]
فوائد ومسائل:
فائدہ: کسی کا کہیں درخت ہو تو اس کے طول برابر اس کے اطراف میں اس کا خاص احاطہ ہوگا جس میں دوسرا دخل نہیں دے سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3640 سے ماخوذ ہے۔