حدیث نمبر: 3631
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ : إِنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ ، وَقَالَ مُؤَمَّل : إِنَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ " ، لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں` ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے : کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے ؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو “ اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11389) (حسن الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان۔`
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3631]
فوائد ومسائل:
فائدہ: ان لوگوں کو کسی تہمت میں پکڑا گیا تھا۔
جب تہمت ثابت نہ ہوئی تو ان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3631 سے ماخوذ ہے۔