حدیث نمبر: 3627
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، وَمُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ سَيْفٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عليْهِ لَمَّا أَدْبَرَ : حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ ، فَقُلْ : حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا ، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا : مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو ، پھر جب تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو : میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3627
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, ورواية بقية بن الوليد الحمصي عن بحير بن سعد محمولة علي السماع
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10910)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/25) (ضعیف) (اس کے راوی'' بقیہ'' ضعیف ہیں ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی اپنے حق کے لیے قسم کھائے۔`
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا: مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو، پھر جب تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو: میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3627]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم حقیقت یہی ہے کہ انسان کو اپنے حقوق کا ہر لحاظ سے تحفظ کرنا چاہیے۔
محنت و کوشش پر توکل کی بنیاد رکھنی چاہیے۔
نہ کہ ہاتھ پیر توڑ کر عاجز بن کر بیٹھ رہنے پر۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3627 سے ماخوذ ہے۔