حدیث نمبر: 3625
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ مُزْيَنَةَ مِمَّنْ كَانَ يَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَيَعِيهِ ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے` اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا ، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3625
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, وانظر الحديث السابق نحوه (488), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 129
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (488)، (تحفة الأشراف: 15492) (ضعیف) » (اس کی سند میں بھی وہی مجہول راوی ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ذمی کو کیسے قسم دلائی جائے؟`
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے کہ مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3625]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایات آگے 4450 اور 4451 میں مفصل آیئں گی۔
ان شاء اللہ
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3625 سے ماخوذ ہے۔