حدیث نمبر: 3623
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَكَ يَمِينُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے ، کندی نے کہا : یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا : ” کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کندی سے ) فرمایا : ” تو تیرے لیے قسم ہے “ تو حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (139)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (3245)، (تحفة الأشراف: 11768) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1340

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان۔`
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کندی سے) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3623]
فوائد ومسائل:

مدعا علیہ متقی ہو یا فاجر قسم اٹھا کر مدعی کے دعوے سے بری ہوجائے گا۔


مدعی مدعاعلیہ سے اس کے علم کے حوالے سے قسم کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس مطالبے پر اعتراض نہیں کیا۔


یہ دونوں احادیث پیچھے 3244 اور3245 میں بھی گزرچکی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3623 سے ماخوذ ہے۔