سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى عِلْمِهِ فِيمَا غَابَ عَنْهُ باب: آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَكَ يَمِينُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ " .
´وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے ، کندی نے کہا : یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا : ” کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کندی سے ) فرمایا : ” تو تیرے لیے قسم ہے “ تو حضرمی نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: ” کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ “ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کندی سے) فرمایا: ” تو تیرے لیے قسم ہے “ تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3623]
1۔
مدعا علیہ متقی ہو یا فاجر قسم اٹھا کر مدعی کے دعوے سے بری ہوجائے گا۔
3۔
مدعی مدعاعلیہ سے اس کے علم کے حوالے سے قسم کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس مطالبے پر اعتراض نہیں کیا۔
2۔
یہ دونوں احادیث پیچھے 3244 اور3245 میں بھی گزرچکی ہیں۔