سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب كَيْفَ الْيَمِينُ باب: قسم کیسے کھائی جائے؟
حدیث نمبر: 3620
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ : " احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ " ، يَعْنِي لِلْمُدَّعِي ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو يَحْيَى اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا : ” اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس ( یعنی مدعی کی ) کی کوئی چیز نہیں ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قسم کیسے کھائی جائے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: ” اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس (یعنی مدعی کی) کی کوئی چیز نہیں ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3620]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: ” اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس (یعنی مدعی کی) کی کوئی چیز نہیں ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3620]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس بیان کی بہت اہمیت ہے۔
اس طریقے سے دوسرے کا حق مارنے کےلئے ہرقسم کے حیلوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔
فائدہ: اس بیان کی بہت اہمیت ہے۔
اس طریقے سے دوسرے کا حق مارنے کےلئے ہرقسم کے حیلوں کا سدباب ہوجاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3620 سے ماخوذ ہے۔