حدیث نمبر: 3617
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَحْمَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَرِهَ الِاثْنَانِ الْيَمِينَ أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا " ، قَالَ سَلَمَةُ : قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَقَالَ : إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں ، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں “ ( اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے ) ۔ سلمہ کہتے ہیں : عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3617
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أصله عند البخاري (2574) بغير ھذا اللفظ
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الشہادات 24 (2674)، (تحفة الأشراف: 14698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/317)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6001) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيفه همام بن منبه: 97

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے)۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3617]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یعنی جب دونوں ہی قسم نہ کھانا چاہیں تو قاضی یہ فیصلہ کرسکتا ہے۔
کہ قرعہ اندازی کی جائے جس کے نام کا قرعہ نکل آئے گا۔
اسے قسم کھانی ہوگی۔
یا پھر دستبردار ہوجائےگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3617 سے ماخوذ ہے۔