سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ باب: ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَلَقِيتُ سُهَيْلًا فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : مَا أَعْرِفُهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ ، قَالَ : فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔ سلیمان کہتے ہیں` میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا : تو انہوں نے کہا : میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا : ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا : اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان۔`
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3611]
ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3611]
فوائد ومسائل:
1۔
مدعی کے پاس جب ایک گواہ ہو تو مالی امور میں اس سے قسم لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اور یہ قسم دوسرے گواہ کے قائم مقام ہوگی۔
2۔
محدث جب اپنی کسی روایت کو بھول جائے۔
اور بالجزم اور یقین سے کہے کہ یہ مجھ پر جھوٹ ہے یا میں نے اسے روایت نہیں کیا ہے۔
وغیرہ۔
تو ایسی روایت مردود ہوتی ہے۔
لیکن اگر محض احتمال کا اظہار کرتے ہوئے کہے مجھے ئیہ حدیث یاد نہیں یا مجھے معلوم نہیں اور پہلے دور میں سننے والا ثقہ راوی اس سے روایت کرے۔
تو اس کی روایت مقبول ہوتی ہے۔
مذکورہ اسناد اور واقعہ (من حدث ونسي) جس نے حدیث بیان کی اور (بعد میں) بھول گیا کی مثال ہے اور محدثین کی امانت علمی اور روایت کرنے میں احتیاط اور دقت پسندی کی دلیل ہے۔
1۔
مدعی کے پاس جب ایک گواہ ہو تو مالی امور میں اس سے قسم لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اور یہ قسم دوسرے گواہ کے قائم مقام ہوگی۔
2۔
محدث جب اپنی کسی روایت کو بھول جائے۔
اور بالجزم اور یقین سے کہے کہ یہ مجھ پر جھوٹ ہے یا میں نے اسے روایت نہیں کیا ہے۔
وغیرہ۔
تو ایسی روایت مردود ہوتی ہے۔
لیکن اگر محض احتمال کا اظہار کرتے ہوئے کہے مجھے ئیہ حدیث یاد نہیں یا مجھے معلوم نہیں اور پہلے دور میں سننے والا ثقہ راوی اس سے روایت کرے۔
تو اس کی روایت مقبول ہوتی ہے۔
مذکورہ اسناد اور واقعہ (من حدث ونسي) جس نے حدیث بیان کی اور (بعد میں) بھول گیا کی مثال ہے اور محدثین کی امانت علمی اور روایت کرنے میں احتیاط اور دقت پسندی کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3611 سے ماخوذ ہے۔