سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَفِي الْوَصِيَّةِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں کی گئی وصیت کے سلسلہ میں ذمی کی گواہی کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ ، مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، وَعُدَيِّ بْنِ بَدَّاءٍ ، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ ، فَقَالُوا : اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعُدَيٍّ ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا ، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ قَالَ : فَنَزَلَتْ فِيهِمْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ سورة المائدة آية 106 " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی ، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا : ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یہ آیت : «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سورة المائدة : ( ۱۰۶ ) انہی کی شان میں اتری ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3606]
فائدہ: اس مرنے والے سہمی کا نام بدیل بن ابی ماریہ ہے اور اس کے دونوں ساتھی اس وقت نصرانی تھے۔
جو بعد میں مسلمان ہوئے رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لے آئے۔
اور تمیم داری نے اسلام قبول کرلیا۔
تو اس خیانت کو بہت بڑا گناہ جانا پھر وہ سہمی کے وارثوں کے پاس گئے۔
اور پوری خبر بتائی اور انہیں اپنے حصے کے پانچ سو درہم ادا کئے۔
یہ بھی بتایا کہ باقی پانچ سو درہم عدی بن بداء کے پاس ہیں۔
ان سے بھی پانچ سو لیے گئے۔
(فتح الباري۔
کتاب الوصایا باب قول اللہ عزوجل: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ...............الخ 501تا 502)
(1)
امام بخاری ؒ نے اس سے ثابت کیا ہے کہ وصیت پر گواہی ثبت ہونی چاہیے تاکہ اختلاف کے وقت اسے بروئے کار لایا جا سکے۔
(2)
آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ دوران سفر میں وصیت کے موقع پر اگر مسلمان عادل گواہ نہ مل سکیں تو ایسے حالات میں کفار کی گواہی پر اعتبار کیا جا سکتا ہے جبکہ عام حالات میں گواہی کے لیے اسلام اور عدالت شرط ہے۔
اگر کسی ثبوت کی بنا پر کفار کی گواہی کے متعلق شک پڑ جائے تو ان سے برتر گواہوں کی گواہی سے، پہلے گواہوں کی گواہی کالعدم ہو جائے گی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گواہی ہر حالت میں ٹھیک ٹھیک اور سچی ہونی چاہیے۔
(3)
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت تمیم داری مسلمان ہوئے تو انہیں اس گناہ کا احساس ہوا۔
وہ میت کے اہل خانہ کے پاس گئے اور اعتراف جرم کیا، نیز پانچ سو درہم ادا کر کے اس نقصان کی تلافی کی اور بتایا کہ باقی پانچ سو درہم میرے ساتھی کے پاس ہیں۔
(فتح الباري: 502/5)