مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3605
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنِ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاء هَذِهِ ، وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنِ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُ عَلَى وَصِيَّتِهِ ، فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ، فَأَخْبَرَاهُ ، وَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ ، وَوَصِيَّتِهِ ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ : هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللَّهِ مَا خَانَا وَلَا كَذَبَا وَلَا بَدَّلَا وَلَا كَتَمَا وَلَا غَيَّرَا ، وَإِنَّهَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُهُ فَأَمْضَى شَهَادَتَهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شعبی کہتے ہیں کہ` ایک مسلمان شخص مقام ” دقوقاء “ میں مرنے کے قریب ہو گیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا ، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی ، تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا ، پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ : قسم اللہ کی ، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے ، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی ، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا ۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں ( اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3605
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد إن كان الشعبي سمعه من أبي موسى , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, زكريا بن أبي زائدة عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/47 وھو من الثالثة), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سفر میں کی گئی وصیت کے سلسلہ میں ذمی کی گواہی کا بیان۔`
شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص مقام دقوقاء میں مرنے کے قریب ہو گیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3605]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اگر کس مسلمان کو ایسی جگہ موت کا سامنا ہو جہاں اس کی وصیت کےلئے مسلمان گواہ موجود ہوں۔
تو قرآن مجید میں یہ طریقہ بتایا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
اے لوگو! جوایمان لائے ہو۔
جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے۔
تو تمہارے درمیان گواہی ہونی چاہیے۔
اور وصیت کےوقت اپنے (مسلمانوں) میں سے دو انصاف والے گواہ بنالو۔
یا تم اگر زمین پر سفر میں نکلے ہو اور (راستے میں) موت کی مصیبت پیش آجائے۔
تو غیر قوم کے دو گواہ بھی کافی ہوں گے۔
پھر اگر تمھیں کوئی شبہ ہو تو ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد (مسجد میں) روک لو تو وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم اس گواہی کے بدلے کی کوئی قیمت نہیں لے رہے۔
اور کوئی ہمارا رشتہ دار بھی ہو۔
(تو ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں) اور ہم اللہ کی گواہی نہیں چھپاتے اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم گناہگاروں میں شمار ہوں گے۔
پھر اگر پتہ چل جائے کہ بےشک ان دونوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو ان دونوں کی جگہ دو اور گواہ ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کا حق مارا گیا ہو۔
اور جو مرنے والے کے زیادہ قریبی ہوں۔
پھر وہ دونوں اللہ کی قسمیں کھایئں کہ ہماری گواہی ان (پہلے) دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔
اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں شمار ہوں گے۔
اس طرح زیادہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے۔
یا کم از کم اس بات کا ہی خوف کریں گے۔
کہ کہیں ان (ورثاء) کی قسموں کے بعد ان کی قسمیں رد نہ کردی جایئں۔
اور تم اللہ سے ڈرو اور سنو۔
اور اللہ نافرمانی کرنے والوں کوہدایت نہیں دیتا۔
(المائدة۔
106 تا 108)اس باب کی دونوں حدیثوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ مسلم گواہوں کی عدم موجودگی میں غیر مسلم گواہ بنائے جاسکتے ہیں۔
ان کی گواہی سے شک وشبہ ختم کرنے کےلئے گواہی کے ساتھ قسم بھی لینی چاہیے پہلی حدیث کی سند میں اگرچہ کلام ہے۔
لیکن آئندہ حدیث صحیح بخاری کی ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو فیصلہ فرمایا وہ عین وحی الٰہی کے مطابق تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3605 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔