سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب كَيْفَ يَجْلِسُ الْخَصْمَانِ بَيْنَ يَدَىِ الْقَاضِي باب: دونوں فریق (مدعی اور مدعا علیہ) قاضی کے سامنے کس طرح بیٹھیں؟
حدیث نمبر: 3588
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں حاکم کے سامنے بیٹھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دونوں فریق (مدعی اور مدعا علیہ) قاضی کے سامنے کس طرح بیٹھیں؟`
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں حاکم کے سامنے بیٹھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3588]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں حاکم کے سامنے بیٹھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3588]
فوائد ومسائل:
فائدہ: روایت ضعیف الاسناد ہے۔
لیکن صحیح یہی ہے کہ کسی فریق کو عدالت میں کوئی فوقیت اور ترجیح نہ دی جائے۔
دونوں آمنے سامنے ہوں۔
یہ بات رسول اللہ ﷺ کے عمل اور فرامین سے واضح ہے۔
فائدہ: روایت ضعیف الاسناد ہے۔
لیکن صحیح یہی ہے کہ کسی فریق کو عدالت میں کوئی فوقیت اور ترجیح نہ دی جائے۔
دونوں آمنے سامنے ہوں۔
یہ بات رسول اللہ ﷺ کے عمل اور فرامین سے واضح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3588 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1200 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(قضاء کے متعلق احادیث)`
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ’’ جھگڑا کرنے والے دونوں حاکم کے روبرو بیٹھیں۔ " اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1200»
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ’’ جھگڑا کرنے والے دونوں حاکم کے روبرو بیٹھیں۔ " اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1200»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب كيف يجلس الخصمان بين يدي القاضي، حديث:3588، والحاكم:4 /94 وصححه، ووافقه الذهبي.* مصعب بن ثابت: الأكثر علي تضعيفه(مجمع الزوائد للهيثمي:1 /25).»
تشریح: مذکورہ روایت ضعیف الاسناد ہے‘ تاہم صحیح یہی ہے کہ عدالت میں مدعی اور مدعا علیہ دونوں کو یکساں سلوک کا مستحق سمجھا جائے۔
کسی سے امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے دونوں آمنے سامنے ہوں تاکہ کسی کو کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو۔
واللّٰہ أعلم۔
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب كيف يجلس الخصمان بين يدي القاضي، حديث:3588، والحاكم:4 /94 وصححه، ووافقه الذهبي.* مصعب بن ثابت: الأكثر علي تضعيفه(مجمع الزوائد للهيثمي:1 /25).»
تشریح: مذکورہ روایت ضعیف الاسناد ہے‘ تاہم صحیح یہی ہے کہ عدالت میں مدعی اور مدعا علیہ دونوں کو یکساں سلوک کا مستحق سمجھا جائے۔
کسی سے امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے دونوں آمنے سامنے ہوں تاکہ کسی کو کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو۔
واللّٰہ أعلم۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1200 سے ماخوذ ہے۔