حدیث نمبر: 3587
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عُثْمَانَ الشَّامِيُّ " وَلَا إِخَالُنِي رَأَيْتُ شَأْمِيًّا أَفْضَلَ مِنْهُ " يَعْنِي حُرَيْزَ بْنَ عُثْمَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذ بن معاذ کہتے ہیں` ابوعثمان شامی نے مجھے خبر دی اور میری نظر میں ان سے ( یعنی حریز بن عثمان سے ) کوئی شامی افضل نہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ناسخین کی غلطی سے کسی دوسری حدیث کی سند کی بابت یہ کلام یہاں درج ہو گیا ہے، یا اس سند سے مروی حدیث درج ہونے سے رہ گئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3587
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔`
معاذ بن معاذ کہتے ہیں ابوعثمان شامی نے مجھے خبر دی اور میری نظر میں ان سے (یعنی حریز بن عثمان سے) کوئی شامی افضل نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3587]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اوپر والی روایت سندا ضعیف ہے۔
لیکن یہی بات نیچے والی سند سے صحیح طریق سے مروی ہے۔
ان تینوں احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اجتہاد سے فیصلے فرماتے تھے۔
جو غلطیوں سے پاک ہوتے تھے۔
اورآئندہ کےلئے حجت تھے۔
کیونکہ علی سبیل الافتراض اگر کوئی غلطی ہوتی تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آپ کو مطلع فرما دیتا۔
آپﷺ کے بعد تمام قاضیوں کو بہت زیادہ محنت سے حقائق سمجھنے چاہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3587 سے ماخوذ ہے۔