سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 3586
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَوَ هُوَ عَلَى الْمِنْبَر : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الرَّأْيَ إِنَّمَا كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصِيبًا لِأَنَّ اللَّهَ كَانَ يُرِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّكَلُّفُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن شہاب کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا : ” لوگو ! رائے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درست تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سجھاتا تھا ، اور ہماری رائے محض ایک گمان اور تکلف ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ہم معاملہ کو سمجھ کر اور غور و فکر کرکے کوئی رائے قائم کرتے ہیں پھر اس پر بھی اطمینان نہیں کہ وہ درست ہو۔