حدیث نمبر: 3586
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَوَ هُوَ عَلَى الْمِنْبَر : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الرَّأْيَ إِنَّمَا كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصِيبًا لِأَنَّ اللَّهَ كَانَ يُرِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّكَلُّفُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن شہاب کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا : ” لوگو ! رائے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درست تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سجھاتا تھا ، اور ہماری رائے محض ایک گمان اور تکلف ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ہم معاملہ کو سمجھ کر اور غور و فکر کرکے کوئی رائے قائم کرتے ہیں پھر اس پر بھی اطمینان نہیں کہ وہ درست ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأقضية / حدیث: 3586
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال المنذري: ’’ ھذا منقطع،الزهري لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه ‘‘ (عون المعبود 329/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19406) (ضعیف) » (زہری کی عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے )