سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 3585
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيث ، قَالَ : يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ ، فَقَالَ : إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ` وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے “ ۔