سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ لَهُمَا لَمْ تَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ إِلَّا دَعْوَاهُمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، فَبَكَى الرَّجُلَانِ ، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : حَقِّي لَكَ ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا مَا فَعَلْتُمَا ، فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ ، ثُمَّ اسْتَهَمَا ، ثُمَّ تَحَالَّا .
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص اپنے میراث کے مسئلے میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان دونوں کے پاس بجز دعویٰ کے کوئی دلیل نہیں تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( پھر راوی نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی ) تو دونوں رو پڑے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا : میں نے اپنا حق تجھے دے دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : ” جب تم ایسا کر رہے ہو تو حق کو پیش نظر رکھ کر ( مال ) کو تقسیم کر لو ، پھر قرعہ اندازی کر لو اور ایک دوسرے کو معاف کر دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص اپنے میراث کے مسئلے میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان دونوں کے پاس بجز دعویٰ کے کوئی دلیل نہیں تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (پھر راوی نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی) تو دونوں رو پڑے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: میں نے اپنا حق تجھے دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ” جب تم ایسا کر رہے ہو تو حق کو پیش نظر رکھ کر (مال) کو تقسیم کر لو، پھر قرعہ اندازی کر لو اور ایک دو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3584]
1۔
اس قسم کے معاملات اور مقدمات میں مصالحت کے سوا دوسرا کوئی حل نہیں ہوتا۔
2۔
دو فریق جب کسی استحقاق میں برابر ہوں تو قرعے سے یہ معا ملہ طے کر لینا چاہیے۔
3۔
ممکنہ زیادتی سے اسی دنیا میں معافی سے تلافی کرلینا مناسب ہے۔
اس دینا میں تو آدمی حسب احوال کوئی مالی دبائو یا کوئی دوسری مشکل ومشقت برداشت کرسکتا ہے، مگر ظلم کی صورت میں کل قیامت کے دن حساب انتہائی کڑا اور سخت ہوگا۔