سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ باب: عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ " ، وقَالَ وَكِيعٌ : عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وقَالَ أَبُو عَوَانَةَ : عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا : ” جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس ( عہدے ) کے لیے مدد چاہی ۱؎ وہ اس کے سپرد کر دیا گیا ۲؎ ، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی سفارشیں کرائے گا۔
۲؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہو گی۔
۲؎: یعنی اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہ ہو گی۔