سنن ابي داود
كتاب الأقضية— کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ باب: قاضی (جج) سے فیصلہ میں غلطی ہو جائے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3576
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي يَحْيَى الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ إِلَى قَوْلِهِ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 44 ـ 47 هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ الثَّلَاثِ نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ خَاصَّةً فِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» ” جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں “ اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة : ( ۴۴ ، ۴۵ ، ۴۷ ) تک ، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قاضی (جج) سے فیصلہ میں غلطی ہو جائے تو کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» ” جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں “ اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: (۴۴، ۴۵، ۴۷) تک، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3576]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون» ” جو اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں “ اللہ تعالیٰ کے قول «الفاسقون» سورة المائدة: (۴۴، ۴۵، ۴۷) تک، یہ تینوں آیتیں یہودیوں کے متعلق اور بطور خاص بنی قریظہ اور بنی نضیر کی شان میں نازل ہوئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3576]
فوائد ومسائل:
فائدہ: ان آیات میں ہے کہ جو فیصلہ کرنے والے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں۔
وہ کافر ہیں۔
ظالم ہیں۔
فاسق ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان سے پتہ چلتا ہے کہ فیصلے کے فریق غیر مسلم ہوں۔
تو پھر بھی فیصلہ مبنی بروحی قوانین کے مطابق کرنا ہوں گا۔
چاہے وہ ان کی آسمانی کتاب کے قوانین کیوں نہ ہوں۔
ان کے خود ساختہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنا ہو تو یہ منصب کوئی مسلمان قبول نہیں کرسکتا۔
چہ جائے کہ مسلمانوں کے درمیان قوانین وحی سے ہٹ کر دوسرے قوانین کے ذریعے سے فیصلہ کیا جائے؟
فائدہ: ان آیات میں ہے کہ جو فیصلہ کرنے والے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں۔
وہ کافر ہیں۔
ظالم ہیں۔
فاسق ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان سے پتہ چلتا ہے کہ فیصلے کے فریق غیر مسلم ہوں۔
تو پھر بھی فیصلہ مبنی بروحی قوانین کے مطابق کرنا ہوں گا۔
چاہے وہ ان کی آسمانی کتاب کے قوانین کیوں نہ ہوں۔
ان کے خود ساختہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنا ہو تو یہ منصب کوئی مسلمان قبول نہیں کرسکتا۔
چہ جائے کہ مسلمانوں کے درمیان قوانین وحی سے ہٹ کر دوسرے قوانین کے ذریعے سے فیصلہ کیا جائے؟
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3576 سے ماخوذ ہے۔