سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب الْمَوَاشِي تُفْسِدُ زَرْعَ قَوْمٍ باب: مویشی دوسروں کے کھیت برباد کر دیں تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3570
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنِ الَأوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الَأنْصَارِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِب ، قَالَ : كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِبَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا ، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ فِيهَا ، فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِط بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَة بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَة مَا أَصَابَتْ مَاشيِتهُمْ بِاللَّيْلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` میرے پاس ایک ہرہٹ اونٹنی تھی ، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کر دیا ، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا : ” دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے ، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے “ ۔ ( اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا ) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا ۔