سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِيمَنْ أَفْسَدَ شَيْئًا يَغْرَمُ مِثْلَهُ باب: جو شخص دوسرے کی چیز ضائع اور برباد کر دے تو ویسی ہی چیز تاوان میں دے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، قَالَتْ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " مَا رَأَيْتُ صَانِعًا طَعَامًا مِثْلَ صَفِيَّةَ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، فَبَعَثَتْ بِهِ فَأَخَذَنِي أَفْكَلٌ فَكَسَرْتُ الْإِنَاءَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْتُ ؟ ، قَالَ : إِنَاءٌ مِثْلُ إِنَاءٍ ، وَطَعَامٌ مِثْلُ طَعَامٍ " .
´جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا ( اچھا ) کھانا پکاتے کسی کو نہیں دیکھا ، ایک دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکا کر آپ کے پاس بھیجا ( اس وقت آپ میرے یہاں تھے ) میں غصہ سے کانپنے لگی ( کہ آپ میرے یہاں ہوں اور کھانا کہیں اور سے پک کر آئے ) تو میں نے ( وہ ) برتن توڑ دیا ( جس میں کھانا آیا تھا ) ، پھر میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے جو حرکت سرزد ہو گئی ہے اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” برتن کے بدلے ویسا ہی برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی دوسرا کھانا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے جیسی کھانا بنانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکی اور میں نے برتن توڑ دیا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کفارے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ” برتن کے جیسا برتن اور کھانے کے جیسا کھانا۔“ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3409]