سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِيمَنْ أَفْسَدَ شَيْئًا يَغْرَمُ مِثْلَهُ باب: جو شخص دوسرے کی چیز ضائع اور برباد کر دے تو ویسی ہی چیز تاوان میں دے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمِهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ ، قَالَ : فَضَرَبَتْ بِيَدِهَا ، فَكَسَرَتِ الْقَصْعَةَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ ، وَيَقُولُ : غَارَتْ أُمُّكُمْ " ، زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى جَاءَتْ قَصْعَتُهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى لَفْظِ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ ، قَالَ : كُلُوا ، وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا ، فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ ، وَحَبَسَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِهِ .
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس تھے ، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا ، تو اس بیوی نے ( جس کے گھر میں آپ تھے ) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا ( وہ دو ٹکڑے ہو گیا ) ، ابن مثنیٰ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی ، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے : ” تمہاری ماں کو غیرت آ گئی “ ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے ( کہ آپ نے فرمایا : ” کھاؤ “ تو لوگ کھانے لگے ، یہاں تک کہ جس گھر میں آپ موجود تھے اس گھر سے کھانے کا پیالہ آیا ( اب ہم پھر مسدد کی حدیث کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھاؤ “ اور خادم کو ( جو کھانا لے کر آیا تھا ) اور پیالے کو روکے رکھا ، یہاں تک کہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح و سالم پیالہ قاصد کو پکڑا دیا ( کہ یہ لے کر جاؤ اور دے دو ) اور ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے اس گھر میں روک لیا ( جس میں آپ قیام فرما تھے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس تھے، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا، تو اس بیوی نے (جس کے گھر میں آپ تھے) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا (وہ دو ٹکڑے ہو گیا)، ابن مثنیٰ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے: ” تمہاری ماں کو غیرت آ گئی “ ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے (کہ آپ نے فرمایا: ” کھاؤ “۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3567]
1۔
کسی دوسرے کوکوئی چیز ضائع کر دینے کی صورت میں اس کاعوض یا بدل دینا لازم ہے۔
2۔
کھانا گر جائے تو صاف ستھرا کھانا اٹھا کر کھا لینا چاہیے۔
3۔
کسی عزیز کی ساتھی یا تلخی وغیرہ کا سبب بیان کردیا جائے۔
یا عمدہ تاویل کردی جائے تو اس کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔
اور دار قطنی اور ابن ماجہ کی روایت میں حفصہ ؓ کا ذکر ہے۔
اور طبرانی کی روایت میں ام سلمہ ؓ کا اور ابن حزم کی روایت میں زینب ؓ کا۔
احتمال ہے کہ یہ واقعہ کئی بار ہوا ہو۔
حافظ ؒنے کہا کہ مجھ کو اس لونڈی کا نام معلوم نہیں ہوا۔
حدیث اور باب کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کا ایک پیالہ کوئی توڑ دے تو اس کو اس کی جگہ دوسرا صحیح پیالہ واپس کرنا چاہئے۔
(1)
رسول اللہ ﷺ جب حضرت عائشہ ؓ کے گھر تشریف فرما ہوتے تو عام طور پر صحابۂ کرام تحائف وغیرہ ان دنوں بھیجتے تھے، اس لیے شارحین نے لکھا ہے کہ ہاتھ مار کر پیالہ توڑنے والی حضرت عائشہ ؓ تھیں۔
بعض روایات میں ہے، آپ نے فرمایا: ’’تمہاری اماں جان کو غیرت آ گئی، اس لیے پیالہ توڑ دیا۔
‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5225)
البتہ جن کا پیالہ توڑا گیا تھا ان کے متعلق مختلف روایات ہیں: سنن ابوداود اور سنن نسائی میں حضرت صفیہ ؓ کا ذکر ہے۔
(سنن أبي داود، البیوع، حدیث: 3568، و سنن النسائي، عشرة النساء، حدیث: 3409)
سنن دارقطنی اور سنن ابن ماجہ میں حضرت حفصہ ؓ کا نام آتا ہے۔
(سنن ابن ماجة، الأحکام، حدیث: 2333، و سنن الدارقطني: 154/4)
معجم طبرانی میں حضرت ام سلمہ ؓ اور محلی ابن حزم کی ایک روایت میں حضرت زینب ؓ کا تذکرہ ہے۔
(معجم الطبراني الصغیر: 161/1، والمعلی لابن حزم: 365/14) (2)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے کئی ایک واقعات ہوئے ہیں۔
بہرحال جس نے پیالہ توڑا تھا اس کے گھر سے صحیح پیالہ لے کر واپس کیا گیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسے دے دیا گیا۔
چونکہ دونوں پیالے رسول اللہ ﷺ کے تھے تو آپ نے گویا توڑنے والی کو سزا دی کہ ٹوٹا ہوا پیالہ اس کے گھر میں رہنے دیا اور صحیح سالم پیالہ دوسری بیوی کے پاس بھیج دیا۔
(فتح الباري: 155/5)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ناگوار ہوا اور غصے میں ایک ہاتھ خدمتگار کے ہاتھ پر جو کھانا لایا تھا مار دیا۔
وہ کھانا اس کے ہاتھ سے گر پڑا اور برتن بھی ٹوٹ گیا۔
وہ غیرت میں یہ کام کر بیٹھی، غیرت اور رشک عورتوں کا خاصہ ہے شاذ و نادر کوئی عورت اس سے پاک ہوتی ہے۔
اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤاخذہ نہیں فرمایا۔
ایک حدیث میں ہے جو کوئی عورت کی غیرت پر صبر کرے اس کو شہید کا ثواب ملتا ہے۔
عورت کی فطرت میں ہے کہ وہ سوکن پر غیرت کرتی ہے اور یہ شروع سے ہوتا آ رہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پیالہ تو واپس کر دیا لیکن غیرت والی بیوی سے اورکوئی مؤاخذہ نہیں کیا کیونکہ عورت جب غیرت میں آتی ہے تو شدت غضب کی وجہ سے اس کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔
بہرحال غیرت اور رشک عورتوں کا خاصہ ہے، شاذ و نادر ہی کوئی عورت اس سے پاک ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 403/9)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک پیالہ کھانا بھیجا، پہلی بیوی نے (غصہ سے کھانا لانے والے) کے ہاتھ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے (کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا)، تم لوگ کھانا کھاؤ۔ لوگوں نے کھایا، پھر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3407]
(2) ممکن ہے کہ آپ نے اپنی بیویوں کو ایک قسم کے پیالے لے کر دیے ہوں جیسا کہ مساوات کا تقاضا ہے‘ لہٰذا آپ نے پیالہ ٹوٹنے پر اس جیسا پیالہ واپس فرمایا۔ ویسے بھی دونوں پیالے آپ کی ملکیت تھے۔ اپنی ملکیت میں آدمی خود مختار ہوتا ہے۔
(3) آپ کی ہر زوجۂ مطہرہ کو احتراماً ام المومنین (مومنوں کی ماں) کہاجاتا ہے‘ خواہ وہ عمر میں چھوٹی ہو۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا، پہلی بیوی نے (غصہ سے کھانا لانے والے) کے ہاتھ پر مارا، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے (کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا)، تم کھانا کھاؤ، لوگوں نے کھایا، پھر جن کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اپنا پیالہ لائی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2334]
فوائد ومسائل: (1)
ہمسایوں کا ایک دوسرے کے ہاں کھانا وغیرہ بھیجنا ایک اچھی عادت ہے خاص طور پر جب کوئی نئی اور عمدہ ڈش تیار کی جائے تو کچھ نہ کچھ ہمسایوں کے ہاں بھیج دینا چاہیے۔
(2)
سو کنوں کی باہمی رقابت ایک فطری اور معروف چیز ہے لہٰذا خاوند کو چاہیے کہ اسے برداشت کرے کیونکہ اسے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔
(3)
اگر کوئی ایسی چیز کسی کے ہاتھ سے ضائع ہو جائے جس کا متبادل دستیاب ہوتو ضائع ہونیوالی چیز کےبدلے میں ویسی ہی چیز مالک کو دی جائے۔
(4)
بیویوں میں انصاف کا تعلق صرف جیب خرچ یا شب باشی کے معاملات سے نہیں بلکہ روز مرہ کے معاملات میں بھی سب کے ساتھ انصاف کا یکساں سلوک کرنا ضروری ہے۔