حدیث نمبر: 3559
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ ، وَمَمَاتَهُ وَلَا تُرْقِبُوا ، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی “ ۔ اور فرمایا : ” رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی “ ( یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3559
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه ابن ماجه (2381 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الرقبی 1 (3746)، سنن ابن ماجہ/الہبات 3 (2381)، (تحفة الأشراف: 3700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/250) (حسن صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2381 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عمریٰ (عمر بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دینے) کا بیان۔`
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ وارث کو دلا دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2381]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
جوچیزکسی کوعمربھر کے لیے دی گئی وفات کےبعد وہ دینے والے کو واپس نہیں ملے گی بلکہ جس طرح مرنے والے کی باقی جائیداد اس کے وارثوں میں تقسیم ہوگی، اس انداز سےملنے والی چیز بھی ترکے میں شامل ہوکر اس کے وارثوں میں تقسیم ہوجائے گی کیونکہ شرعا یہ چیز ہبہ کےحکم میں ہے، لہٰذا وصول کرنےوالے کی جائز ملکیت شمار ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2381 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3748 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس حدیث میں ابوالزبیر (راوی) پر رواۃ اختلاف کا ذکر۔`
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ وارث کا حق ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الرقبى/حدیث: 3748]
اردو حاشہ: یعنی جس کو عمریٰ دیا گیا تھا‘ اس کی وفات کی صورت میں اس کے ورثاء کو ملے گا‘ دینے والے کو واپس نہیں ملے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3748 سے ماخوذ ہے۔