حدیث نمبر: 3557
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ طَارِقٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، أَعْطَاهَا ابْنُهَا حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ ، فَمَاتَتْ ، فَقَالَ ابْنُهَا : إِنَّمَا أَعْطَيْتُهَا حَيَاتَهَا ، وَلَهُ إِخْوَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ لَهَا حَيَاتَهَا وَمَوْتَهَا ، قَالَ : كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَيْهَا ، قَالَ : ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے ( جو اپنا حق مانگ رہے تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے “ پھر وہ کہنے لگا : میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو یہ ( واپسی ) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے “ ( کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3557
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الثوري و حبيب عنعنا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2283)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/299) (ضعیف) » (حبیب مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، او ر حمید کے بارے میں بھی بعض کلام ہے، ملاحظہ ہو: الارواء 6؍51)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے (جو اپنا حق مانگ رہے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے " پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پھر تو یہ (واپسی) تمہارے لیے اور بھی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3557]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ عمریٰ یا رقبیٰ واپس نہیں ہوتا اور بالخصوص جب صدقہ کیا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3557 سے ماخوذ ہے۔