سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ باب: باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3543
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : " أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا الْغُلَامُ ؟ ، قَالَ : غُلَامِي ، أَعْطَانِيهِ أَبِي ، قَالَ : فَكُلَّ إِخْوَتِكَ أَعْطَى كَمَا أَعْطَاكَ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَارْدُدْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کیسا غلام ہے ؟ “ انہوں نے کہا : میرا غلام ہے ، اسے مجھے میرے والد نے دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” جیسے تمہیں دیا ہے کیا تمہارے سب بھائیوں کو دیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اسے لوٹا دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟`
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” یہ کیسا غلام ہے؟ “ انہوں نے کہا: میرا غلام ہے، اسے مجھے میرے والد نے دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” جیسے تمہیں دیا ہے کیا تمہارے سب بھائیوں کو دیا ہے؟ “ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اسے لوٹا دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3543]
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” یہ کیسا غلام ہے؟ “ انہوں نے کہا: میرا غلام ہے، اسے مجھے میرے والد نے دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” جیسے تمہیں دیا ہے کیا تمہارے سب بھائیوں کو دیا ہے؟ “ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اسے لوٹا دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3543]
فوائد ومسائل:
فائدہ: ظلم کا مال بلاطلب ملے تو نہیں لینے چاہیے۔
بلکہ واپس کردیا جائے قبول کرلینے میں ظالم اور اس کے معاملے کی تایئد وتوثیق اور اس کی معاونت ہے اور واپس کردینے میں اس سے براءت اور اس کی حوصلہ شکنی ہے۔
فائدہ: ظلم کا مال بلاطلب ملے تو نہیں لینے چاہیے۔
بلکہ واپس کردیا جائے قبول کرلینے میں ظالم اور اس کے معاملے کی تایئد وتوثیق اور اس کی معاونت ہے اور واپس کردینے میں اس سے براءت اور اس کی حوصلہ شکنی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3543 سے ماخوذ ہے۔