سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ باب: کیا کسی آدمی کا ماتحت اس کے مال سے اپنا حق لے سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ ، قَالَ : " كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا ، قَالَ : قُلْتُ : أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ ، قَالَ : لَا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ " .
´یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں` میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا ، ان بچوں نے ( بڑے ہونے پر ) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی ، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے ( میں نے حساب کیا تو ) مجھے ان کا مال دوگنا ملا ، میں نے اس شخص سے کہا ( جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا ) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ دے کر آپ سے اینٹھ لیے ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں ( میں واپس نہ لوں گا ) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو “ ۔