حدیث نمبر: 3517
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الْأَرْضِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شفعہ کا بیان۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3517]
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3517]
فوائد ومسائل:
1۔
شفعہ شفع سے ماخوز ہے اور لغت میں اس کے معنی جوڑا ہونا۔
اضافہ کرنا۔
اوراعانت کرنا آتے ہیں۔
شرعاً یہ ہے کہ ''مشترک یا ملحق زمین ومکان کو فروخت کرتے وقت شریک ساتھی کو جو حق خریداری کا اولین حق رکھتا تھا۔
بتائے بغیر کسی اور کو منتقل کردیا گیا ہو۔
تو اسے واپس لوٹانا۔
شفعہ کہلاتا ہے۔
بشرط یہ ہے کہ قیمت وہی ہو جو اجنبی نے دی ہو۔
2۔
حدیث۔
1516۔
3515۔
میں ہمسائے سے مراد شریک ہے۔
جیسا کہ متعدد روایات میں صراحت ہے۔
اسی کی تایئد حدیث 3518 سے بھی ہوتی ہے۔
اس میں وضاحت ہے کہ جس ہمسائے کا راستہ ایک ہو وہی ہمسایہ شفعہ کا حقدار ہوگا۔
اگر راستہ مشترک نہ ہو۔
بلکہ الگ الگ ہو ایک دوسرے کی حدود متعین ہوں تو پھر محض ہمسایہ ہونے کی بنا پردہ شفعہ کا حق دار نہیں ہوگا۔
شفعہ کا حق دارصرف وہی ہوگا جو زمین یا باغ میں شریک ہوگا۔
1۔
شفعہ شفع سے ماخوز ہے اور لغت میں اس کے معنی جوڑا ہونا۔
اضافہ کرنا۔
اوراعانت کرنا آتے ہیں۔
شرعاً یہ ہے کہ ''مشترک یا ملحق زمین ومکان کو فروخت کرتے وقت شریک ساتھی کو جو حق خریداری کا اولین حق رکھتا تھا۔
بتائے بغیر کسی اور کو منتقل کردیا گیا ہو۔
تو اسے واپس لوٹانا۔
شفعہ کہلاتا ہے۔
بشرط یہ ہے کہ قیمت وہی ہو جو اجنبی نے دی ہو۔
2۔
حدیث۔
1516۔
3515۔
میں ہمسائے سے مراد شریک ہے۔
جیسا کہ متعدد روایات میں صراحت ہے۔
اسی کی تایئد حدیث 3518 سے بھی ہوتی ہے۔
اس میں وضاحت ہے کہ جس ہمسائے کا راستہ ایک ہو وہی ہمسایہ شفعہ کا حقدار ہوگا۔
اگر راستہ مشترک نہ ہو۔
بلکہ الگ الگ ہو ایک دوسرے کی حدود متعین ہوں تو پھر محض ہمسایہ ہونے کی بنا پردہ شفعہ کا حق دار نہیں ہوگا۔
شفعہ کا حق دارصرف وہی ہوگا جو زمین یا باغ میں شریک ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3517 سے ماخوذ ہے۔