حدیث نمبر: 3506
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( بایع پر ) غلام و لونڈی کے عیب کی جواب دہی کی مدت تین دن ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3506
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, ابن ماجه (2245), قال المنذري : ’’ ھذا منقطع فإن الحسن لم يصح له سماع من عقبة ‘‘ (انظر عون المعبود 304/3), وللحديث طريق آخر ضعيف عند ابن ماجه (2244), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/التجارات 44 (2245)، (تحفة الأشراف: 9917)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/143، 150، 152)، سنن الدارمی/البیوع 18 (2594) (ضعیف) » (حسن بصری کا سماع عقبہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2245

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2245 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´غلام کو واپس لینے کی ذمے داری کی مدت کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار دن کے بعد بیچنے والا ذمہ دار نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2245]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے غلام خریدا، پھر اسے غلام میں کوئی عیب معلوم ہو گیا تو اگر تین دن کے اندر اسے عیب معلوم ہو گیا اور اس نے واپس کرنا چاہا تو یہ ہو سکتا ہے، تین دن کےبعد واپس نہیں کر سکتا، تاہم اس باب کی مذکورہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔
اخلاقی طور پر ہر بیچنے والے کا اخلاقی فرض ہے کہ غلام یا جانور کا عیب نہ چھپائے بلکہ بیان کر دے۔
اور اگر خریدار عیب معلوم ہونے پر غلام یا جانور کو واپس کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ واپس لے لے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2245 سے ماخوذ ہے۔