سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ باب: چارہ روکنے کے لیے پانی کو روکنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ اللُّؤْلُئِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَرْنٍ . ح ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خِدَاشٍ ، وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ، أَسْمَعُهُ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْكَلَإِ ، وَالْمَاءِ ، وَالنَّار " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنتا تھا : ” مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں ( یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ) : ( ا ) پانی ( نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو ) ، ( ۲ ) گھاس ( جو لاوارث زمین میں ہو ) اور ( ۳ ) آگ ( جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو ) “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چارہ روکنے کے لیے پانی کو روکنا منع ہے۔`
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنتا تھا: ” مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں (یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں): (ا) پانی (نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو)، (۲) گھاس (جو لاوارث زمین میں ہو) اور (۳) آگ (جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3477]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنتا تھا: ” مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں (یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں): (ا) پانی (نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو)، (۲) گھاس (جو لاوارث زمین میں ہو) اور (۳) آگ (جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3477]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
گھاس اور پانی جب عام چراگاہ اور صحرا میں قدرتی ہوں تو خود قابض ہوکر دوسروں کو اس سے روکنا جائز نہیں۔
اس طرح جلتی آگ سے کوئی کوئلہ لے جائے یا آگ جلالے تو روکنا روا نہیں۔
فائدہ۔
گھاس اور پانی جب عام چراگاہ اور صحرا میں قدرتی ہوں تو خود قابض ہوکر دوسروں کو اس سے روکنا جائز نہیں۔
اس طرح جلتی آگ سے کوئی کوئلہ لے جائے یا آگ جلالے تو روکنا روا نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3477 سے ماخوذ ہے۔