سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ باب: چارہ روکنے کے لیے پانی کو روکنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : بُهَيْسَةُ ،عَنْ أَبِيهَا ، قَالَتْ : " اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ ، فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : الْمَاءُ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : الْمِلْحُ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ " .
´بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ` میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی ، ( اجازت ملی ) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی “ پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نمک “ پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جتنی بھی تو نیکی کرے ( یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے ) تیرے لیے بہتر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، (اجازت ملی) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانی “ پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نمک “ پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3476]
ملحوظہ۔
یہ روایت ضعیف ہے، لیکن یہ بات مسلمہ ہے کہ اپنی یا نمک جیسی چیزوں میں بخل کرنا بہت بر ی بات ہے۔