سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي تَفْسِيرِ الْجَائِحَةِ باب: «جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟
حدیث نمبر: 3472
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا جَائِحَةَ فِيمَا أُصِيبَ دُونَ ثُلُثِ رَأْسِ الْمَالِ " . قَالَ يَحْيَى : وَذَلِكَ فِي سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یحییٰ بن سعید کہتے ہیں` راس المال کے ایک تہائی سے کم مال پر آفت آئے تو اسے آفت نہیں کہیں گے ۔ یحییٰ کہتے ہیں : مسلمانوں میں یہی طریقہ مروج ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ایک تہائی سے کم نقصان ہو تو قیمت میں مشتری کے ساتھ رعایت نہیں کرتے ہیں، کیونکہ تھوڑا بہت تو نقصان ہوا ہی کرتا ہے۔