حدیث نمبر: 3468
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي الطَّائِيَّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی پہلے قیمت دے کر کوئی چیز خریدے تو وہ چیز کسی اور چیز سے نہ بدلے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: مثلاً بیع سلم گیہوں لینے پر کی ہو اور لینے سے پہلے اس کے بدلہ میں چاول ٹھہرا لے تو یہ درست نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3468
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (2283), عطية العوفي ضعيف مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/التجارات 60 (2283)، (تحفة الأشراف: 4204) (ضعیف) » (اس کے راوی عطیہ عوفی ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2283

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بیع سلف کے ذریعہ خریدی گئی چیز بدلی نہ جائے۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی پہلے قیمت دے کر کوئی چیز خریدے تو وہ چیز کسی اور چیز سے نہ بدلے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3468]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
ایسی صورت میں مال بیچنے والا وقت مقررہ پر مال مہیا کرنے سے فی الواقع معذور رہے تو حاصل کردہ رقم واپس کردے۔
یا مناسب انداز میں صلح کرلیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3468 سے ماخوذ ہے۔