سنن ابي داود
كتاب الإجارة— کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
باب فِي السَّلَمِ فِي ثَمَرَةٍ بِعَيْنِهَا باب: کسی خاص درخت کے پھل کی بیع سلم کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ ، فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ ؟ ثُمَّ قَالَ : لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی ، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا : ” تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو ؟ اس کا مال اسے لوٹا دو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کسی خاص درخت کے پھل کی بیع سلم کرنا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: ” تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3467]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: ” تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3467]
فوائد ومسائل:
1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ تاجر اگر مطلوبہ مال مہیا کرنے سے عاجز رہے تو صرف وصول کردہ قیمت واپس کی جائے گی۔
2۔
خاص درخت یا باغ کی بیع سلم اس لئے روک دیا گیا کہ اس میں نقصان کا پہلو موجود ہے۔
پتہ نہیں اس پر پھل آئے گا یا نہیں۔
کم آئے گا یا زیادہ؟ اس لئے عمومی معاملہ ہونا چاہیے نہ کہ خاص۔
1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ تاجر اگر مطلوبہ مال مہیا کرنے سے عاجز رہے تو صرف وصول کردہ قیمت واپس کی جائے گی۔
2۔
خاص درخت یا باغ کی بیع سلم اس لئے روک دیا گیا کہ اس میں نقصان کا پہلو موجود ہے۔
پتہ نہیں اس پر پھل آئے گا یا نہیں۔
کم آئے گا یا زیادہ؟ اس لئے عمومی معاملہ ہونا چاہیے نہ کہ خاص۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3467 سے ماخوذ ہے۔