حدیث نمبر: 3465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : عِنْدَ قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ ؟ قَالَ أَبُو دَاوُد : الصَّوَابُ ابْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ ، وَشُعْبَةُ أَخْطَأَ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن ابی مجالد ( اور عبدالرحمٰن نے ابن ابی مجالد کہا ہے ) سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلم کرتے تھے ، جن کے پاس ( بروقت ) یہ مال نہ ہوتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن ابی مجالد صحیح ہے ، اور شعبہ سے اس میں غلطی ہوئی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الإجارة / حدیث: 3465
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (3464)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5117) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بیع سلف (سلم) کا بیان۔`
عبداللہ بن ابی مجالد (اور عبدالرحمٰن نے ابن ابی مجالد کہا ہے) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلم کرتے تھے، جن کے پاس (بروقت) یہ مال نہ ہوتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مجالد صحیح ہے، اور شعبہ سے اس میں غلطی ہوئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3465]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
وہ خطا یہ ہے کہ شعبہ نے عبد اللہ بن مجالد کہا ہے جب کہ اصل نام عبد اللہ بن ابی المجالہ ہے، اسے ابوالمجالد بھی کہہ لیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3465 سے ماخوذ ہے۔