حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا “ ، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 346
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, انظر الحديث السابق
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 1735) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔`
اس سند سے بھی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 346]
346۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت مذکورہ بالاحدیث کا معنی واضح کرتی ہے اور سر دھونے کی خصوصیت یہ ہے کہ عرب لوگ لمبے بال رکھتے تھے اور انہیں دھونے میں محنت ہوتی تھی اور وقت لگتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 346 سے ماخوذ ہے۔